China and India on Monday again accused each other of provoking each other on the Himalayan border.

چین اور بھارت میں جون میں یہیں تاریخ کا بدترین تصادم ہوا جس میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے تاہم اس کے بعد مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو

معمول پر لانے کی کوششیں جاری تھیں۔

غیرملکی خبررساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’29/30 اگست 2020 کی شب میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے مشرقی لداخ میں جاری کشیدگی کے دوران فوجی اور سفارتی رابطوں کے دوران ہونے والے گزشتہ اتفاق رائے کی خلاف ورزی کی اور اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت کی تاکہ حیثیت کو تبدیل کیا جائے’
بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے ‘زمین پر یکطرفہ حقائق تبدیل کرنے کی’ چینی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
چین کی فوج نے بیان میں کہا کہ بھارتی فوج نے پیر کو 4200 میٹر بلندی پر واقع جھیل کے قریب پینگونگ تسو کے مقام پر سرحد عبور کی اور استعال زنگیزی کرتے ہوئے سرحد پر صورتحال میں تناؤ پیدا کردیا۔
پیپلز لبریشن آرمی ریجنل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ چینی فوج اس تمام کارروائی کے انسداد کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے اور بھارت چین کی علاقائی خودمختاری کو سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام کیا اور کبھی بھی لکیر کو عبور نہیں کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ دو اطراف کے سرحدی فوجی دستوں نے زمینی مسائل پر مواصلاتی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ کئی ماہ سے مغربی ہمالیائی حصے میں فوجیں موجود ہیں جہاں دونوں دونوں فریقین ایک دوسرے پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف وزری کا الزام لگاتے ہیں۔
قبل ازیں 20 جون کو گالوان وادی میں کشیدگی کے دوران 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹنے پر رضامند ہوئے تھے۔
تاہم مذاکرات کے کئی دور کے باوجود مختلف مقامات پر فوجیں آمنے سامنے ہیں جس میں انتہائی بلندی والی پیانگونگ تسو جھیل بھی شامل ہے جس کے بارے میں دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں۔
بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی جھیل کے ساتھ پیش آئی۔
اپنے بیان مزید کہا کہ ‘بھارتی فوج نے پیانگونگ جھیل کے جنوبی کنارے پر پی ایل اے کی سرگرمیوں کو پہلے ہی بھانپ لیا اور اپنے پوزشین مستحکم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے اور زمینی حقائق تبدیل کرنے کے چین کے یکطرفہ اقدام کو ناکام بنا دیا’۔
واضح رہے کہ بھارت اور چین اپنے تقریباً 3500 کلومیٹر (2 ہزار میل) طویل سرحد پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں اور اس کے لیے 1962 میں دونوںکے درمیان جنگ بھی ہوئی تھی، تاہم نصف صدی کے دوران رواں موسم گرما میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔
بھارتی فوج نے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام نے حالیہ بحران کو حل کرنے کے لیے سرحدی پوائنٹ پر ملاقاتیں کی تھیں۔