Dr. Abdullah Abdullah, Chairman of the Afghanistan Council for National Reconciliation, will visit Pakistan on September 28.

افغانستان کی کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اٹھائیس ستمبر کو پاکستان آئیں گے۔
عبداللہ عبداللہ دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے۔
افغانستان کی کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ دورہ پاکستان کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کوجولائی میں دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا دورہ افغان مفاہمتی عمل کوآگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
چند روز قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان کے سفیر شکر اللہ عاطف مشل نے ملاقات کی تھی۔ ان کی یہ الوداعی ملاقات تھی۔
ہم نیوز نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں افغانستان کے سفیر نے مفاہمتی عمل کی حمایت پر پاک فوج کے سربراہ کا شکریہ ادا کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے سفیر شکر اللہ عاطف مشل نے جی ایچ کیو کے دورے میں الوداعی ملاقات کی۔
ماسکو: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی عزت و وقار کے ساتھ واپسی بھی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ماسکو میں ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سے کورونا کےخلاف علاقائی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں اور پاکستان کورونا سے نمٹنے کے لیے اپنے تجربات کا دنیا سے تبادلہ کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے کورونا سے پیدا ہونے والی مشکل صورتحال سے نمٹنے میں مدد فراہم کی، عالمی وبا کو سیاست کے لیے استعمال کرنا اور کسی بھی مذہب یا طبقے سے جوڑنا غلط ہے جبکہ عالمی امن، سلامتی اور عالمی ترقی میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہونا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ضروری ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس متنازعہ خطوں کا اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے خلاف ہیں۔ پرامن اور مستحکم افغانستان خطے اور دنیا کے لیے ناگزیر ہے جبکہ پاکستان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کی واحد راہ ہے اور پاکستان نے افغان عوام پر مشتمل مفاہمتی عمل کی بھرپور حمایت کے ساتھ مخلصانہ کردار ادا کیا اب بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ مفاہمتی ماحول کو خراب کرنے والے عناصر سے خبردار رہا جائے اور افغان مہاجرین کی عزت و وقار کے ساتھ واپسی بھی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ ایس سی او ملکوں کو فسطائیت اور پر تشدد قومیت پرستی سے نمٹنے کے لیے کام کرنا چاہیے اور ایس سی او کو خطے کو جوڑنے والے منصوبوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔