Heavy rains lashed different parts of Punjab including Lahore

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش نے جل تھل ایک کر دیا، نشیبی علاقے پانی پانی ہو گئے، لاہور میں‌ بارش سے 130 فیڈرز ٹرپ کر گئے۔ چکوال میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا طوفانی اسپیل، نشیبی علاقوں میں ہر سو پانی ہی پانی، باغوں کا شہر لاہور بھی پانی کے نرغے میں آ گیا۔ کئی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، گلی محلے بھی پانی میں ڈوب گئے۔
اہم شاہراہوں پر بھی پانی کھڑا ہوگیا جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بارش کے باعث لیسکو کا ترسیلی نظام بھی بیٹھ گیا، 130 فیڈرز ٹرپ کر گئے، کئی علاقوں میں بجلی غائب ہے۔
دوسری طرف پنجاب کے مختلف شہروں میں چھتیں گرنے کے واقعات بھی پیش آئے، چکوال کے علاقے لکھوال میں دو مکانات کی چھتیں گر گئیں جس کے نتیجے میں 20 سالہ کائنات، 17 سالہ مہتاب، 10 سالہ عائزہ اور 14 سالہ دارین جاں بحق ہوگئیں، دو افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ لیہ میں شدید بارش کے سبب 200 کچے مکان گر گئے، ملبے تلے دب کر ایک شخص جاں بحق اور 10 زخمی ہو گئے۔
چشتیاں میں بھی بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہوئے، ریسکیو ٹیموں نے ہسپتال منتقل کیا۔ موسم کی خبر دینے والوں کا کہنا ہے کہ بارش کا سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دورا ن وقفے وقفے سے جاری رہے گا

محکمہ موسمیات نے ستمبر میں ملک بھر میں بارشوں کے بارے میں پیشگوئی کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان، بالائی کے پی میں ستمبر کے دوران معمول سےکم بارشیں ہوں گی جب کہ پنجاب کے مون سون ریجن میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔
محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ ستمبر کے پہلے 15 دن زیادہ نم آلود رہیں گے اور کے پی کے کچھ زیریں علاقوں میں بھی نارمل یا قدرے زیادہ بارشیں ہوں گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وسطی پنجاب اور مشرقی سندھ میں بھی معمول سے زائد بارشوں کا امکان ہے، رواں ماہ آزاد جموں کشمیر میں بارشیں معمول کے مطابق ہوں گی۔
ماہ ستمبر میں سندھ اور بلوچستان کے جنوبی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہےگا۔
15 ستمبر کے بعد سندھ، بلوچستان میں یومیہ اوسط درجہ حرارت معمول سے بڑھ جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے معمول کی میٹنگز منسوخ کر کے لاہور شہر کا درہ کیا اور بغیر پروٹوکول شہر کے مختلف علاقوں میں بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔وزیراعلی نے مال روڈ، ڈیوس روڈ، شملہ پہاڑی، لارنس روڈ اور دیگر علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیا، انہوں نے لارنس روڈ پر انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج کا بھی معائنہ کیا اور نکاسی آب کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا مشاہدہ کیا۔
وزیراعلی عثمان بزدار نے شہر میں نکاسی آب کا کام جلد سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، ان کا کہنا تھا کہ انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج کے ذریعے بارشی پانی کو محفوظ کیاجا رہاہے- لاہور میں ایسے مزید انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج بنائیں گے- نکاسی آب کے لئے تمام تر وسائل اورمشینری بروئے کار لائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے انتظامیہ اور واسا حکام کوپانی کے نکاس کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلی نے کہا کہ انتظامی افسران اور واسا حکام نکاسی آب مکمل ہونے تک فیلڈ میں خود موجود رہیں۔ بارش کے دوران سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں رکھنے کیلئے ٹریفک پولیس مستعدی سے کام کرے۔ عوام سے ہوں اورعوام کی مشکلات کے جلد ازالے کیلئے انتظامیہ کو متحرک کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید بارش سے شہریوں کیلئے پیدا ہونے والی تکلیف کو خود محسوس کیا ہے۔ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں۔ اس مشکل صورتحال میں اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ نکاسی آب کو جلد سے جلد یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں کی مشکلات کا جلد ازالہ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے نکاسی آب کیلئے ضروری ہدایات جاری کیں اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کا بھی مشاہدہ کیا۔