Maryam Nawaz has decided to appear in the Islamabad High Court on September 1.

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق مریم نواز نے اپنی لیگل ٹیم کو انتظامات کرنے کی ہدایت کردی ہے اور وہ یکم ستمبر کو مری سے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچیں گی۔

خیال رہے کہ مریم نواز نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹنس کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل پر بھی سماعت یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔
ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ درخواست پر سماعت کرے گا جس میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ نواز شریف دوبارہ سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر ملک کو درست ٹریک پر ڈالیں۔
مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کی نواز شریف سے محبت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر مزید لکھا کہ لوگ نہ صرف نواز شریف کو واپس وطن میں دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ وہ (عوام) چاہتے ہیں کہ نواز شریف ملک کو درست سمت پر لانے کے لیے دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالیں۔
مریم نواز نے کہا کہ بھیرہ پر جب دوپہر کے کھانے کے لیے رکی تو وہاں موجود ہر شخص نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے پوچھا اور ان سے اپنی قربت اور حمایت کا یقین دلایا۔
احتساب عدالت نے شریف گروپ کے چیف فنانس آفیسر محمد عثمان کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔
لاہور کی احتساب عدالت میں شریف گروپ چیف فنانس آفیسر محمد عثمان کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں نیب نے ملزم کے مزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
نیب پراسیکیوٹر عاصم ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ ملزم محمد عثمان شریف فیملی کی کمپنیوں کے لیے قرضہ لیتا تھا، ملزم کمپنیوں کے لیے جعلی قرضہ لیتا رہا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم دوران تفتیش تسلی بخش جواب نہیں دے سکا لہٰذا ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے ۔
احتساب عدالت میں محمد عثمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ نیب حکام 28 روز میں محمد عثمان سے کچھ تحقیقات نہیں کرسکے اور نیب پراسیکیوٹر ایک ہی بنیاد پر عثمان کا بار بار ریمانڈ مانگ رہے ہیں، محمد عثمان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا لہٰذا عدالت ملزم کو جیل بھیجنے کا حکم دے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے نیب کی استدعا کو منظور کرلیا اور ملزم محمد عثمان کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کردی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی۔