تحریر: میرا ہونا ، تیرے ہونے سے ہے

خوف دو طرح کا ہوتا ہے یعنی اللہ کے جلال سے ڈرنا اور دوسرا دنیا کا خوف ہوتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا خوف باعث رحمت ہوتا ہے ۔ دنیا کا خوف ہر بری اور نقصان دہ چیز سے ڈرنا ہے لیکن دنیا کا خوف تکلیف اور دکھ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پریشانیوں اور دکھوں کی وجہ سے ہی انسان غمگین ہوتا ہے۔ لیکن جس دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے وہاں دنیاوی خوف ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ایک وقت میں ایک ہی کی جگہ ہوتی ہے، پھر چاہے آپ اللہ کو رکھیں یا انسان کو۔ واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ’ اللہ کے دوستوں اور خاص بندوں کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ ان کے ہاں خوف اور حزن نہیں ہوتا‘ یعنی جب بندہ اللہ سے دل لگا لے تو دنیا کی کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔
جب انسان اللہ کی راہ میں گامزن ہو جاتا ہے تو وہ اس کا ہا تھ تھامنے میں زرا دیر نہیں کرتا جبکہ جب انسان کسی انسان کا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو کئی بار ٹوٹتا ہے کیونکہ وہ غلط راستے پر چلنا اور توکل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ توکل تو صرف اللہ رب العزت کی ذات پر ہونا چاہیے جو چاہے تو آپ کو ساتویں منزل سے گرا کر بھی بچا لے اور اگر چاہے تو پہلی منزل سے گرا کر جان قبض کر لے۔ یہ سب اس اللہ جل جلالہ کی حکمتیں ہیں۔
جب اس کا بندہ اس کے ڈر سے اس کی حمدوثنا کرتا ہے اور اللہ پر بن دیکھے یقین رکھتے ہوئے اس کو یاد کرتا ہے تو وہ رب اپنے اس عظیم بندے کا ذکر اپنے فرشتوں میں کرتا ہے کہ دیکھو یہ میرا فرمانبردار اور معزز بندہ ہے اور میری حمدوثنا کثرت سے کرتا ہے ۔ جس بندے کو اللہ یاد کرے تو اس کا مقام اور اس کی سعادت کچھ کم ہے کیا؟
محبوب جب اپنے عاشق کے لیے تڑپ رہا ہوتا ہے تو اس کو اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ اس کا عاشق اس کو یاد کر لے۔ اسی طرح جب بندہ اللہ کی محبت میں تڑپتا ہے اس کی راحت کے لیے اللہ کا اس کو یاد کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔
جب دل اللہ کی یاد سے دھڑکتا ہے تو کچھ لوگ جھوم اٹھتے ہیں، ایسے لوگوں کو درویش کہا جاتا ہے جیسے مولانا جلالدین رومی ، بابا بلھے شاہ، شاہ محمد درویش، محمد احمد المہدی اور سید محمد عبداللہ حسن وغیرہ۔ ایک درویش کے لیے رب سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر نہ وہ اپنی بھوک، نہ پیاس اور نہ ہی نیند کی پرواہ کرتا ہے، وہ تو بس اپنے محبوب سے ملنے کی تڑپ میں جھومتا رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ محبوب کے ہونے سے ہی اس کا وجود ہے۔ گر محبوب نہ ہوتا تو وہ بھی نہ ہوتا۔ اسی لیے تو اللہ کا بندہ کہتا ہے کہ میرا ہونا، تیرے ہونے سے ہے۔
*عشق نے قلندر بنا دیا ہے ساقی
سجدوں میں لذت پا رہا ہے ساقی
تسبیح پھیر کے اپنے اندر جھانک رہا ہے ساقی
یہ کون ہے جو دھوم مچا رہا ہے ساقی
میکدہ میں جام پینے کا لطف اٹھا رہا ہے ساقی
نظر جھکائے کھڑا رحمت کا طلبگار ہے ساقی*
اللہ کے بندوں میں توکل اور صبر کی خوبیاں بے شمار پائی جاتی ہیں جیسے حضرت ابراہیم ؑ نے آگ میں بھی اللہ پر توکل کیا تو وہ بچ نکلے۔ اسی طرح حضرت یونسؑ نے مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ پر توکل کی تو وہ بھی بچ نکلے۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ کا انتظار صبر سے کیا تو اللہ نے ان کو بھی ملا دیا۔
اللہ کے بندے نا امید اور ناشکری سے کام لینے والے نہیں ہوتے۔ وہ اللہ کے کن پر یقین رکھتے ہیں اور جب کوئی معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔
اللہ کا بندہ اپنا محسن اس کو بناتا ہےجو اس کو اپنے رب کی یاد دلائے، جو خود بھی صالح کام کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرے۔ جو محسن آپ کو اللہ سے دور کر دے، وہ اصل میں آپ کا محسن نہیں بلکہ دشمن ہوتا ہے جو آپ کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیتا ہے۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ برے لوگوں سے دور رہیے اور اپنا وجود اللہ کی راہ میں قربان کر دیجیے۔ اس سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی نصیب ہو گی۔ انشااللہ
۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔

Altaf
This website is managed by Image Proud. Image Proud Inc is a 1 years old Entertainment Company that has been made for helping the people to laugh all over the worldwide. Our motive to educate people about laughter and another issue.