PML-N spokesperson Maryam Aurangzeb demanded removal of Lahore Capital City Police Officer (CCPO) Umar Sheikh over remarks made about a woman who was gang-raped near Lahore.

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے لاہور کے قریب گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون سے متعلق اس ریمارکس پر لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا، جس نے معاشرے کے مختلف طبقات میں غم و غصہ کی لہر پیدا کر دی۔
واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔
اب تک موجود معلومات کے مطابق لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔
بعد ازاں حملہ آوروں نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے کچھ وقت بعد پولیس اور خاتون کا ایک رشتے دار جسے پہلے کال کی گئی تھی وہ جائے وقوع پر پہنچے، تاہم تب تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے اور خاتون سے کیش اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ‘خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ اکا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں’۔
سی سی پی او کے اس ریمارکس پر عوام کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اسی معاملے پر جمعہ کو دوران پریس کانفرنس مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‘ایک گھنٹے تک یہ بحث ہوتی رہی کہ یہ وفاق کی حدود ہے یا لاہور پولیس کی، سی سی پی او اس بات پر حیران نہیں کہ ایک عورت دہائی دیتی رہی لیکن اس کو تحفظ دینے والا کوئی وہاں پہنچ نہیں سکا بلکہ وہ اس بات پر حیران ہے کہ پاکستان میں رات کو ایک عورت بچوں کے ساتھ گاڑی میں پیٹرول چیک کیے بغیر جی ٹی روڈ پر جانے کے بجائے موٹروے پر کیوں چڑھ گئی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہے وہ ذہنیت جو ریپ متاثرہ کو شرمندہ’ کر رہی ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کا بیان ‘ان مجرموں کا ساتھ دے رہا ہے اور تحقیقات پر اثر انداز ہورہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ غلطی اس ماں کی ہے جس کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا’۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ‘پوری ریاست، حکومت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب خاموش ہیں’۔
ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود وفاقی وزیر سی سی پی او کے بیان کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ پوری کی پوری کابینہ خاموش ہے اور سی سی پی او کے بیان کا دفاع کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس بیان کے بعد سی سی پی او کا بیان آتا ہے کہ میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، میرا مطلب یہ تھا کہ خاتون کی واقفیت فرانس کی تھی، چونکہ ان کے شوہر فرانس میں ہیں اور وہ فرانس سمجھ کر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رات کو اپنے بچوں کے ساتھ نکلی کیونکہ فرانس میں قانون کی بالادستی ہے، اخلاقی اقدار ہے، قانون کی حکمرانی ہے اور تحفظ دیا جاتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 11 کروڑ لوگوں کو تحفظ حاصل نہیں، وہ محفوظ نہیں لیکن فرانس میں عورتیں محفوظ ہیں، وہاں ریاست کی رٹ اور قانون کی عملداری ہے لیکن اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نہ ریاست کی رٹ ہے، نہ امن و امان ہے اور نہ ہی سماجی و اخلاقی اقدار ہے’۔
ان کے مطابق ‘سی سی پی او کے بیان کا مطلب ہے کہ پاکستان میں خواتین 6 بچوں کے بعد نہ نکلیں اور اگر وہ نکلی اور ان کا ریپ ہوا تو اس کی ذمہ دار وہ خود ہیں، اس کا مطلب ریاست مفلوج ہے وہ خواتین اور ملک کے شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتی، اس کا مطلب ہے اپنی حفاظت خود کریں’۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘عمر شیخ کا بیان آئین کے آرٹیکل 9 کی نفی کرتا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص قانون کے مطابق زندگی یا آزادی سے محروم نہیں ہوگا’۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس بیان کے اوپر پاکستان کی 11 کروڑ بیٹیاں و خواتین یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ اس سی سی پی او کو نوکری سے نکالا جائے۔
یہ واضح رہے کہ مریم اورنگزیب واحد اپوزیشن رہنما نہیں جنہوں نے سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ کیا بلکہ گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی اس بیان پر حیرانی و غصے کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ سن کر انہیں غصہ آیا کہ کچھ پولیس افسران میں اتنی جرات تھی کہ یہ پوچھ سکیں کہ وہ خاتون اس وقت باہر کیوں گئیں۔
تاہم انہوں نے عمر شیخ کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘انہیں برطرف کرنے کی ضرورت ہے’۔
علاوہ ازیں وکیل خدیجہ صدیقی جن پر 2016 میں لاہور میں دن کی روشنی میں 23 مرتبہ وار کیا گیا تھا، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں بیرسٹر حسان نیازی اور ایڈووکٰٹ مراد علی خان مروت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب انعام غنی کے پاس درج شکایت میں کہا ہے کہ سی سی پی او کو ‘معافی مانگنے پر مجبور’ اور ‘معطل’ کرنا چاہیے۔
مزید برآں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پی انعام غنی کو خط بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ سی سی پی او کا بیان کیس کی تحقیقات کے لیے نقصان دہ ہے اور انہوں نے خود کو اس عہدے کے لیے نااہل بھی ثابت کردیا۔
خط میں مطالبہ کیا گیا کہ سی سی پی او کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی مکمل ہونے تک انہیں اس عہدے سے برطرف کیا جائے۔

Altaf
This website is managed by Image Proud. Image Proud Inc is a 1 years old Entertainment Company that has been made for helping the people to laugh all over the worldwide. Our motive to educate people about laughter and another issue.