The federal government has decided to allow Pakistanis with dual citizenship to contest elections.

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے دہری شہریت کےحامل پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے سے متعلق بل منظور کرلیا۔
ذرائع کے مطابق آرٹیکل 63 ون سی تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی گئی ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئینی ترمیمی بل وزارت پارلیمانی امور کو ارسال کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی قانونی کیسز نے دہری شہریت رکھنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی تاہم وفاقی کابینہ نےکابینہ کمیٹی برائے قانونی کیسز کا فیصلہ رد کرتے ہوئے ترمیمی بل کی منظوری دی۔
ذرائع کے مطابق بعض وزراء نے بھی دہری شہریت رکھنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔
ذرائع کے مطابق ترمیمی بل کے تحت دہری شہریت کے حامل افراد کو حلف اٹھانے سے قبل غیر ملکی شہریت ترک کرنا ہوگی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ کیا دوہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟ ثابت ہوچکا اس حکومت کے پاس کوئی پالیسی اور وژن نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے 4 معاونین خصوصی کی دہری شہریت سامنے آنے پر شیری رحمان نے کہا ہے کہ کیا ملک اور تحریک انصاف میں قابل لوگوں کی کمی تھی؟دوہری شہریت کا حامل شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا تو دوہری شہریت والوں کو کابینہ کا حصہ کیوں اورکس قانون کے تحت بنایا گیا؟
شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان ماضی میں دوہری شہریت کے حامل ارکان کی سخت مخالفت کرتے تھے، انہوں نے اپنی ہر بات سے یو ٹرن لیا ہے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا وزیر اعظم نے معلومات کے باوجود دوہری شہریت رکھنے والوں کو آئینی فورم کاحصہ بنایا ؟اگر وزیراعظم کو اس حوالے سےمعلوم نہیں تھا تو یہ مزید تشویش کی بات ہے۔
پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور مشیروں کی اصلیت سامنے آنے کے بعد سلیکٹڈ وزیراعظم بے نقاب ہو چکے ہیں۔
نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت کے خلاف دعوے کرنے والے کی آدھی کابینہ دوہری شہریت کی حامل نکلی ہے اور بیرون ممالک سے وفاداری کا حلف اٹھانے والوں کو پاکستان پر مسلط کیا گیا، امریکی شہری معید یوسف کو حساس معاملات تک رسائی دینا انتہائی تشویشناک ہے۔
اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں دہری شہریت والے ارکان کی موجودگی سیکیورٹی رسک ہے، آئین دہری شہریت کے حامل افراد کو کابینہ اور پارلیمان کا رکن بننے کی اجازت نہیں دیتا۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ حساس معاملات میں غیر ملکی شہریت کےحامل افراد کی موجودگی سنگین معاملہ ہے،عمران خان نے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم عمران خان کے مشیروں اور معاونین خصوصی کی جائیداد اور اثاثوں کی فہرست جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم کے 19 معاونین خصوصی اور مشیروں میں سے 4 غیر ملکی شہریت اور کروڑوں روپے کی جائیداد کے م
ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران صاحب غیر ملکی شہریت رکھنے والے اپنے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں۔
مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمران صاحب آپ نے کہا تھا کہ دوہری شہریت ہو اوریہاں وزیر بھی ہوں یہ نہیں ہوسکتا، آپ نے کہا تھا یہ نہیں ہوسکتا کہ دوہری شہریت بھی ہو اور وہ ملک کے مستقبل کے فیصلے بھی کریں۔
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا عمران صاحب آپ نے کہا تھا کہ جس کے پاس دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہو اسے پارلیمان میں نہیں بیٹھنا چاہیے، اب دوہری شہریت رکھنے والوں کو 22 کروڑعوام کی قسمت کے فیصلے کیوں کرنے دے رہے ہیں؟
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران صاحب آج غیر ملکی پاسپورٹ والوں کو کابینہ میں کیوں بٹھا رکھا ہے؟ جن کا پاکستان میں کچھ نہیں انہیں آج اپنی کابینہ میں بٹھا کرکیوں فیصلے کرا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ملک پر غیر ملکی ٹولہ مسلط ہونے کی وجہ سے عوام بیروزگاری، معاشی تباہی اور بھوک میں مبتلا ہیں، سب فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کی پیداوار مشیروں اور وزیروں کا ٹولہ ہے جو تحفے میں عمران صاحب کو ملا ہے۔

Altaf
This website is managed by Image Proud. Image Proud Inc is a 1 years old Entertainment Company that has been made for helping the people to laugh all over the worldwide. Our motive to educate people about laughter and another issue.