The humiliation of a woman on the motorway, the fee for testing all the residents of the area

موٹروے پر خاتون کی آبروریزی کرنے والے ملزمان ابھی تک آزاد ہیں۔ حکام نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے علاقے کے تمام افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گینگ ریپ واقعہ کے بعد شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے تمام 15 افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہو سکے ہیں، اس لئے حکام کی جانب سے کرول گھاٹی کے تمام رہائشیوں کے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دنیا نیوز ذرائع کے مطابق تمام رہائشیوں کے ڈی این اے سیمپلنگ کیلئے کرول گھاٹی کے قریب فیلڈ ہسپتال بنایا جائے گا۔
خیال رہے زیادتی کا واقعہ گجرپورہ رنگ روڈ پر پیش آیا تھا۔ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر رو ک لی۔ خاتون پریشانی میں گاڑی سے باہر نکلی اور مدد کیلئے فون کرنے میں مصروف تھی کہ 2 ڈاکو پہنچ گئے۔
ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا اور پھر زبردستی قریبی کرول جنگل میں لے گئے اور بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو ایک لاکھ روپے نقدی، طلائی زیورات ودیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس تھانہ گجرپورہ نے 2 نامعلوم ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
ادھر پولیس کی جانب سے ملزمان کو تلاش کرنے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کر دیئے ہیں، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلومیٹر کا علاقہ چیک کر کے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے۔
آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطح سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔
تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت نے اس سلسے میں اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس کے سربراہ وزیر قانون راجہ بشارت ہیں۔ کمیٹی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب اور ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی شامل ہیں۔ کمیٹی تین روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔
وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت واقعہ کی تفتیش میں پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے پولیس حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں انھیں بریفنگ بھی دی گئی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو اور مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جتنا عوام کا دل دکھی ہے، اتنا ہی حکومت دکھی ہے۔ یہ واقعہ لاہور پولیس اور صوبائی حکومت کیلئے چیلنج ہے۔ عوام کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ آئندہ کے لئے مضبوط حکمت عملی بنائی جائے گی۔
صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں عوام کے جذبات کا اندازہ ہے۔ جو عوام کے جذبات ہیں وہ ہی حکومت کے جذبات ہیں۔ متاثرہ خاتون کا میڈیکل ہو گیا ہے۔ پنجاب حکومت کا تمام فوکس اصل مجرموں تک پہنچنے کا ہے۔ پولیس کی پیٹرولنگ کے لئے مزید کام اور گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔
سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر مناسب بیان نہیں دیا

وزیر قانون پنجاب نے لاہور موٹروے گینگ ریپ کیس سے متعلق سی سی پی او کے بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور وزیراعلیٰ عمر شیخ کی برطرفی کے مطالبے سے آگاہ ہیں اور یہ ان کا اختیار ہے کہ انہوں نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم اس وقت ہماری مکمل توجہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں ہے لہٰذا اس وقت اگر ہم انتظامی معاملات میں الجھ گئے تو ہم شاید اصل ہدف حاصل نہ کرسکیں۔
لاہور موٹروے کے قریب پیش آئے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد جائے وقوع کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسی رنگ روڈ پر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور اس کے بعد سے ہماری ٹیمز تفتیش کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔
اب تک موجود معلومات کے مطابق لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔
بعد ازاں حملہ آوروں نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے کچھ وقت بعد پولیس اور خاتون کا ایک رشتے دار جسے پہلے کال کی گئی تھی وہ جائے وقوع پر پہنچے، تاہم تب تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے اور خاتون سے کیش اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک متنازع بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ‘خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں’۔