The Sindh education minister said that a province could give a few days closure to one or some schools under its facilities if SOPs were not prepared.

سعید غنی نے بتایا کہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تمام تعلیمی ادارے اس بات کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ اگر کسی بچے کو بخار یا کھانسی ہے تو وہ اسے اسکول نہ آنے دے، مزید یہ کہ تمام صوبے اپنے اپنے صوبے میں محکمہ صحت کے ساتھ مل کر مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دیں جو روزانہ کی بنیاد پر اسکولوں کا معائنہ کریں۔
پنجاب میں اسکولز کو ڈبل شفٹ کی اجازت نہیں ہوگی، صوبائی وزیر تعلیم
اس سے قبل حکومت پنجاب نے 15 ستمبر سے صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی اسکولز کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ پنجاب کے تمام نجی اور سرکاری ادارے اس شیڈول کے مطابق کھلیں گے، جس کے تحت نویں سے 12 جماعت تک کے لیے 15 ستمبر سے اسکولز کھول دیے جائیں گے۔
مراد راس کے مطابق چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے 22 ستمبر سے اسکولز کھلیں گے جبکہ نرسری سے پانچویں جماعت کے لیے 30 ستمبر سے کلاسز کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوئی ڈبل شفٹ نہیں ہوگی اور تمام نجی اور سرکاری اداروں کی جانب سے متبادل دن کے شیڈول پر عمل کیا جائے گا۔
ساتھ ہی انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں واضح کیا کہ تمام نجی و سرکاری اسکولز کو ایک دن میں صرف 50 فیصد بچے بلانے کی اجازت ہوگی جبکہ متبادل دن میں دیگر 50 فیصد طلبہ بلائے جائیں گے، تاہم ایک دن میں ڈبل شفٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق حتمی فیصلے کے لیے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا ایک اجلاس ہوا۔
اجلاس میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق مختلف معاملات پر غور کیا گیا اور اس دوران مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کی تجاویز دی گئیں۔
مزید یہ کہ اجلاس میں کورونا وائرس کی صورتحال اور وزارت صحت کی گائیڈلائنز کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے تحت تعلیمی ادارے کھولیں جائیں گے۔
یاد رہے کہ ملک میں 26 فروری کو کورونا وائرس کے پہلے کیس کے بعد سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی بندش دیکھنے میں آئی تھی، ابتدائی طور پر اداروں کو کچھ ہفتوں کے لیے بند کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اس میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی اور آخری اعلان میں انہیں 15 ستمبر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
اگرچہ ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال میں بہتری کے باعث دیگر تمام شعبے تقریباً کھول دیے گئے ہیں تاہم تعلیمی ادارے بدستور بند رکھے گئے اور ان کے حوالے سے آج ہونے والے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اس عالمی وبا کے کیسز میں اگرچہ کمی ضرور ہوئی ہے تاہم اس کا خطرہ اب بھی برقرار ہے اور احتیاط نہ کرنے کی صورت میں اس کے بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
ملک میں 7 ستمبر کی دوپہر تک 2 لاکھ 98 ہزار 903 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس میں سے 2 لاکھ 86 ہزار 16 صحتیاب بھی ہوچکے ہیں جبکہ 6 ہزار 345 کا انتقال ہوا ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ 15 ستمبر سے لے کر 30 ستمبر تک اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بتدریج کھولنے کی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پرائمری اسکول 30 ستمبر سے کھولے جائیں گے۔
اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق حتمی مشاورت 7 ستمبر کو ہوگی جس میں اس تجویز پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے، ہم کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہتے جس سے بچوں کی صحت پر کوئی اثر پڑے لیکن حالات اچھے ہیں، انفیکشن اور اموات کی تعداد کم ہوگئی ہیں۔